مجموعۂ کلام ہجرنامہ
مجموعۂ کلام ہجرنامہ سے منتخب شدہ سرِ دشتِ تمنا ہے غبارِ جستجو باقی چراغِ جاں میں جلتی ہے ہوا کی گفتگو باقی خموشی میں چھپی ہے اک صدا موجِ سحر جیسی فضا کے گوشے گوشے میں ہے رنگِ آرزو باقی نگاہوں کے مسافر قید میں ہیں خواب کی مانند ہر اک منظر پہ چھوڑی ہے تری یادوں کی بو باقی ازل سے لے کے اب تک سلسلہ ہجراں کا جاری ہے محبت کے کتب خانے میں ہے اک باب تو باقی سمندر کی لہو رنگی پہ بھی حیرت نہیں ہوتی کہ ساحل کی رگوں میں ہے ابھی شعلہ لہو باقی بکھرتی روشنی میں بھی ہیں سائے جاوداں جیسے چراغِ وقت کے پہلو میں ہے جامِ سبو باقی ستاروں کی طنابوں پر ہے بجتی سازشی ایسی کہ گردش کے لبوں پر ہے ابھی شعرِ نمو باقی ہوا کی اوٹ میں چھپ کر بھی کرتا ہے بیاں کچھ اور فضائے غم میں ہے اب تک نوائے رنگِ خو باقی دلوں کے صحرا میں ذیشانؔ ہے اب بھی وہ ویرانی مگر آواز کی ریتوں میں ہے اک آبجو باقی ذیشانؔ امیر سلیمی