Zeeshan Ameer Saleemi Aik Urdu Gazal
غزل
تری اک نظر کی لے میں، یہ دل یوں ہی گنگناتا رہا کہیں
نہ ہی شورِ وصل بپا ہوا، نہ فراق دل میں بجا کہیں
تری اس ادا کی وہ خامشی، مری عمر بھر کی صدا بنی
نہ لبوں پہ حرفِ دعا رکا، نہ ہی دل نے شکوہ کیا کہیں
تری بے نیازیِ حسن سے، مرے شوق کو یہ سبق ملا
نہ سوالِ وصل رہا کہیں، نہ وبالِ ہجر رہا کہیں
کسی ایک لمحۂ بے طلب نے، یہ سال سارے بدل دیے
نہ امید دل سے جدا ہوئی، نہ یہ درد دل سے گیا کہیں
اسے دیکھ کر جو ٹھہر گیا، وہی میرا سارا قرار تھا
نہ سوال خود سے اٹھا کوئی، نہ جواب دل نے دیا کہیں
خزاںِ جاں کی جو وہ اک ہوا ، حدِ آگہی پہ پہنچ گئی
نہ ہی شاخِ خواب سے پت جھڑا، نہ ہی موسمِ جاں ٹلا کہیں
یہی صبرِ دل کا سلیقہ تھا، جو ثبوتِ عشق بنا رہا
نہ میں ٹوٹ کر بھی بکھر سکا، نہ وجود اپنا جھکا کہیں
کسی آہِ صبح کے لمس نے، مجھے رات ساری جگا رکھا
نہ صدا کی شکل میں ڈھل سکا، نہ وہ خواب دل سے مٹا کہیں
سفرِ خیال کے موڑ پر، مرا جسم ساتھ نہ دے سکا
نہ وجود وقت سے ہارا تھا، نہ فنا کا خوف ہوا کہیں
نفسِ جاں کا وہ جلال تھا، مجھے خود سے خود ہی جدا کیا
نہ میں آئنوں میں بکھر سکا، نہ کوئی سمجھ ہی سکا کہیں
ذیشانؔ امیر سلیمی

Comments
Post a Comment