Zeeshan Ameer Saleemi Urdu Gazal
غزل
یہ دل کا نگر اب بھی ویران پڑا ہے
ہر خواب مری آنکھوں میں حیران پڑا ہے
اک عکسِ صداقت تھا جو آئینۂ جاں میں
اب ٹوٹ کے ہر سمت پریشان پڑا ہے
اس دشتِ انا پر نہ کبھی ابر بھی برسا
سو تشنہ لبوں پر مرا ارمان پڑا ہے
کل تک مرے ہونٹوں پہ امانت تھا جو اک نام
وہ خاک پہ لکھا ہوا بے جان پڑا ہے
جو تخت نشیں تھا کبھی دعویٰٔ وفا کا
اب گرد میں لتھڑا ہوا سلطان پڑا ہے
جن ہاتھوں کو سونپی گئی تھی عدل کی میزان
ان ہاتھوں میں اب ظلم کا فرمان پڑا ہے
ایوانِ ہوس میں بھی کردار سلامت
مقتل میں مگر عدل ہی بے جان پڑا ہے
ذیشانؔ امیر سلیمی

Comments
Post a Comment